3178 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعُ خِلاَلٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا: مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے عبداللہ بن مرہ نے ، ان سے مسروق نے ، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، چار عادتیں ایسی ہیں کہ اگر یہ چاروں کسی ایک شخص میں جمع ہوجائیں تو وہ پکا منافق ہے ۔ وہ شخص جو بات کرے تو جھوٹ بولے ، اور جب وعدہ کرے ، تو وعدہ خلافی کرے ، اور جب معاہدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے ۔ اور جب کسی سے لڑے تو گالی گلوچ پر اتر آئے اور اگر کسی شخص کے اندر ان چاروں عادتوں میں سے ایک ہی عادت ہے ، تو اس کے اندر نفاق کی ایک عادت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے ۔
مقصد یہ ہے کہ وعدہ خلافی کرنا مسلمان کی شان نہیں ہے۔ وہ وعدہ خواہ کافروں ہی سے کیو ںنہ کیاگیا ہو، پھر جو وعدہ اغیار سے سیاسی سطح پر کیا جائے اس کی اور بھی اونچی حیثیت ہے، اسے پورا کرنا مسلمان کے لیے ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کو پورے طور پر نبھایا، حالانکہ اس میں قریش کی کئی شرطیں سراسر نامعقول تھیں، مگر الکریم اذا وعد و فی مشہور مقولہ ہے۔