2983 حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «خَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلاَثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا، فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَأْكُلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً» ، قَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيْنَ كَانَتِ التَّمْرَةُ تَقَعُ مِنَ الرَّجُلِ؟ قَالَ: «لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا، حَتَّى أَتَيْنَا البَحْرَ، فَإِذَا حُوتٌ قَدْ قَذَفَهُ البَحْرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا أَحْبَبْنَا»
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ نے خبردی ، انہیں ہشام نے ، انہیں وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ( ایک غزوہ پر ) نکلے ۔ ہماری تعداد تین سو تھی ، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے ۔ آخر ہمارا توشہ جب ( تقریبًا ) ختم ہوگیا ، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی ۔ ایک شاگرد نے پوچھا ، اے ابوعبداللہ ! ( جابر رضی اللہ عنہ ) ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہ میں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی ۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا ۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے ۔
غالبًا وہیل مچھلی ہوگی جو بعض دفعہ اسی فٹ سے سو فٹ تک طویل ہوتی ہے اور جو آیات الٰہی میں سے ایک عجیب مخلوق ہے۔ اٹھارہ دن تک صرف اسی مچھلی پر گزارہ کرنا یہ محض اللہ کی طرف سے تائید غیبی تھی۔ یہ رجب ۸ھ کا واقعہ ہے۔ باب کا مطلب یوں ثابت ہوا کہ یہ تین سو مجاہدین اپنا اپنا راشن اپنے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ زمانہ بھی ایسی تنگیوں کا تھا۔ نہ آج جیسا کہ ہر قسم کی سہولتیں میسر ہوگئی ہیں پھر بھی بعض مواقع پر سپاہی کو اپنا راشن خود اٹھانا پڑ جاتا ہے۔