فهرس الكتاب

الصفحة 6129 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا

6129 حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا، حَتَّى يَقُولَ [ص:31] لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ»

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو التیاح نے ، کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے ، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابو عمیر نامی سے ( مزاحًا ) فرماتے " یا ابا عمیر ما فعل النغیر " سے ابو عمیر ! تیری ، نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے ؟

ابوعمیر وہ ہی بچہ تھا جو بچپن میں مر گیا تھا اور ام سلیم نے اس کے مرنے کی خبر اس کے والد سے چھپا کر رکھی تھی یہاں تک کہ انہوں نے کھانا کھایا ام سلیم سے صحبت کی۔ اس وقت ام سلیم نے کہا کہ بچہ مرگیا ہے اس کو دفن کردو اسی صبر وشکر کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے اسی رات ام سلیم کے بطن میں حمل ٹھہرا دیا اوربہترین بدل عطا فرمایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت