فهرس الكتاب

الصفحة 6953 من 7563

کتاب: شرعی حیلوں کے بیان میں

باب: حیلے چھوڑنے کا بیان

6953 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ هَاجَرَ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے، ان سے علقمہ بن وقاص لیثی نے بیان کیاکہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خطبہ میں سنا انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا اے لوگو! اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اور اس کے رسول کی طرف ہواسے ہجرت ( کا ثواب ملے گا) اور جس کی ہجرت کا مقصد دنیا ہوگی کہ جسے وہ حاصل کرلے یا کوئی عورت ہوگی جس سے وہ شادی کرلے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔

اس حدیث سے امام بخاری نے حیلوں کے عدم جواز پر دلیل لی ہے کیوں کہ حیلہ کرنے والوں کی نیت دوسری ہوتی ہے اس لیے حیلہ ان کے لیے کچھ مفید نہیں ہوسکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت