7210 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَغِيرٌ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا ' انہوں نے کہا ہم سے عبد اللہ بن یزیدنے بیان کیا ' ان سے سعید ابن ابی ایو نے بیان کیا ' ان سے ابو عقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا ' انہوں نے اپنے دادا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا یا تھا اور ان کی والدہ زینب بنت حمید ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی تھیں اور عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! اس سے بیعت لے لیجئے ۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ ابھی کمسن ہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربای کیا کرتے تھے ۔
یہی سنت ہے کہ ہر ایک گھر کی طرف سے عید الاضحی میں ایک بکری قربای کی جائے ۔ سارے گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری بھی کافی ہے ۔ اب یہ جورواج ہو گیا ہے کہ بہت سے بکریاں قربانی کرتے ہیں یہ سنت نبوی کے خلاف اور صرف فخر کے لیے لوگوں نے ایسا کرنا اختیار کرلیا ہے جیسے کتاب الاضحیہ میں گزرچکا ہے ۔ حافظ عبد اللہ بن ہشام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے بہت مدت تک زندہ رہے ۔