فهرس الكتاب

الصفحة 5718 من 7563

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

باب: ذات الجنب( نمونیہ )کا بیان

5718 حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ مِنَ العُذْرَةِ، فَقَالَ: «اتَّقُوا اللَّهَ، عَلَى مَا تَدْغَرُونَ أَوْلاَدَكُمْ بِهَذِهِ الأَعْلاَقِ، عَلَيْكُمْ بِهَذَا العُودِ الهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الجَنْبِ» يُرِيدُ الكُسْتَ، يَعْنِي القُسْطَ. قَالَ: وَهِيَ لُغَةٌ

ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبردی ، انہیںاسحاق نے ، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن جو ان اگلی ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیںجنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور وہ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ، خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئیں ۔ انہوں نے اس بچے کا کوا گرنے میں تالو دبا کر علاج کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو کہ تم اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو عود ہندی ( کوٹ ) اس میں استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کے لیے شفا ہے جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عود ہندی سے کست تھی جسے قسط بھی کہتے ہیں یہ بھی ایک لغت ہے ۔

عود ہندی اور عود بحری دونوں جڑیں ہوتی ہیں ان دونوں کو ملا کر ناس بنانا اور ناک میں ڈالنا ایسے امراض کے لیے بے حد مفید ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور یہ دونوں دوائیں پسلی کے ورم میں بھی بہت کام آتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت