فهرس الكتاب

الصفحة 5978 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: والد کافر یا مشرک ہو تب بھی اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا

5978 حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً، فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا: {لاَ يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ} [الممتحنة: 8]

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی ، انہیں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ میری والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میرے پاس آئیں ، وہ اسلام سے منکر تھیں ۔ میںنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی " لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین " یعنی اللہ پاک تم کو ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے ہمارے دین کے متعلق کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کرتے ۔

یہ قرآن پاک کی وہ زبر دست آیت کریمہ ہے۔ جو مسلمانوں اورغیر مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو جوڑتی ہے اور باہمی جھگڑوں کو کالعدم قرار دیتی ہے ۔ مسلمانوں کی جنگ جارحانہ نہیں بلکہ صرف مدافعانہ ہوتی ہے ۔ صاف ارشاد باری ہے۔ وان جنحوا للسلم فاجنح لھا ( الانفال: 61 ) اگر تمہاے مخالفین تم سے بجائے جنگ کے صلح کے خواہاں ہوں تو تم بھی فورًا صلح کے لیے جھک جاؤ کیونکہ اللہ کے ہاں جنگ بہر حال نا پسند ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت