2984 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِأَجْرِ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى الحَجِّ؟ فَقَالَ لَهَا: «اذْهَبِي، وَلْيُرْدِفْكِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ» ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، فَانْتَظَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ حَتَّى جَاءَتْ
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عثمان بن اسود نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف حج کر پائی ہوں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاو ( عمرہ کر آو ) عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ( عائشہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ) تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھالیں گے ۔ چنانچہ آپ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تنعیم سے ( احرام باندھ کر ) عائشہ رضی اللہ عنہ کو عمرہ کرا لائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصہ میں مکہ کے بالائی علاقہ پر ان کا انتظار کیا ۔ یہاں تک کہ وہ آ گئیں ۔