فهرس الكتاب

الصفحة 6241 من 7563

کتاب: اجازت لینے کے بیان میں

باب: اذن لینے کا اس لئے حکم دیا گیا کہ نظرنہ پڑے

6241 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: الزُّهْرِيُّ، - حَفِظْتُهُ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا - عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ البَصَرِ»

ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہاہم سے سفیان نے، ان سے زہری نے بیان کیا ( سفیان نے کہاکہ ) میں نے یہ حدیث زہری سے سن کراس طرح یاد کی ہے کہ جیسے تو اس وقت یہاں موجود ہو اور ان سے سہل بن سعد نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک کنگھاتھاجس سے آپ سرمبارک کھجارہے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا ( اندر داخل ہونے سے پہلے ) اجازت مانگنا توہے ہی اسلئے کہ ( اندر کی کوئی ذاتی چیز ) نہ دےکھی جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت