3016 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ: «إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الخُرُوجَ: «إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا، وَإِنَّ النَّارَ لاَ يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا»
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا' کہا ہم سے لیث نے بیان کیا' ان سے بکیر نے' ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ اگر تمہیں فلاں اور فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا' پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو جلا دینا ۔ لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے ۔ اس لئے اگر وہ تمہیں ملیں تو انہیں قتل کرنا ۔ ( آگ میں نہ جلانا )
: بعض صحابہؓ نے اس کو مطلقًا منع جانا ہے گو بطور قصاص کے ہو' بعضوں نے جائز رکھا ہے جیسے حضرت علیؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ سے منقول ہے۔ مہلب نے کہا یہ ممانعت تحریمی نہیں' بلکہ بطور تواضع کے ہے۔ ہمارے زمانہ میں تو آلات حرب توپ اور بندوق اور ڈائنامیٹ تار پیڈو وغیرہ سب انگار ہی انگار ہیں اور چونکہ کافروں نے ان کا استعمال شروع کردیا ہے' لہٰذا مسلمانوں کو بھی ان کا استعمال درست ہے۔ (وحیدی)
مترجم کے خیال ناقص میں ان جدید ہتھیاروں کا استعمال امر دیگر ہے اور مطلق آگ میں جلانا امر دیگر ہے جسے شرعًا و اخلاقًا پسند نہیں کیا جاسکتا۔