4366 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ وَكَانَتْ فِيهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ أَوْ قَوْمِي
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا ، ان سے عمارہ بن قعقاع نے ، ان سے ابو زرعہ نے اوران سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اس وقت سے ہمیشہ بنوتمیم سے محبت رکھتا ہوں جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کی تین خوبیاں میں نے سنی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ بنو تمیم دجا ل کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ سخت لوگ ثابت ہوں گے اور بنو تمیم کی ایک قیدی خاتون عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھےں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کردو کیونکہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے اور ان کے یہاں سے زکوٰۃ وصول ہوکر آئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ ایک قوم کی یا ( یہ فرمایا کہ ) یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے ۔
کیونکہ بنو تمیم الیاس بن مضر میں جاکر آنحضر ت اسے مل جاتے ہیں ۔