فهرس الكتاب

الصفحة 2544 من 7563

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

باب : جو شخص اپنی لونڈی کو ادب اور علم سکھائے، اس کی فضیلت کا بیان

2544 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَعَالَهَا، فَأَحْسَنَ إِلَيْهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ»

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی پرورش کرے اور اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔

الحمد للہ کہ حرم کعبہ مکۃ المکرمہ میں یکم محرم 1390ھ سے اس پارے کے متن کا لفظ لفظ پڑھنا، پھر ترجمہ لکھنا شروع کیا تھا، ساتھ ہی رب کعبہ سے دعائیں بھی کرتا رہا کہ وہ اس عظیم خدمت کے لیے صحیح فہم عطا کرے۔ آج 11 محرم90ھ کوبعونہ تعالیٰ اس حدیث تک پہنچ گیا ہوں۔ پارہ9, 10 کے متن کو کعبہ شریف و مدینۃ المنورہ میں بیٹھ کر پڑھنے کی نذر بھی مانی تھی۔ اللہ کا بے حد شکر ہے کہ یہاں تک کامیابی ہورہی ہے۔ اللہ پاک سے دعاءہے کہ وہ بقایا کو بھی پورا کرائے اور قلم میں طاقت اور دماغ میں قوت عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت