فهرس الكتاب

الصفحة 1142 من 7563

کتاب: تہجد کا بیان

باب: جب آدمی رات کو نماز نہ پڑھے

1142 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی، انہیں ابو الزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگادیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوںپھونک دیتا ہے کہ سوجا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز ( فرض یا نفل ) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بن د خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ ست اور بدباطن رہتا ہے۔

حدیث میں جو آیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ حقیقت میں شیطان گرہیں لگاتا ہے اور یہ گرہیں ایک شیطانی دھاگے میں ہوتی ہیں وہ دھاگہ گدی پر رہتا ہے۔ امام احمد کی روایت میں صاف یہ ہے کہ ایک رسی سے گرہ لگاتا ہے بعضوں نے کہا گرہ لگانے سے یہ مقصود ہے کہ شیطان جادو گر کی طرح اس پر اپنا افسوں چلاتا ہے اور اسے نماز سے غافل کرنے کے لیے تھپک تھپک کر سلادیتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت