فهرس الكتاب

الصفحة 5066 من 7563

کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

باب: جونکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو روزہ رکھے

5066 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے بیان کیا ، ان سے عبد الرحمن بن یزید نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے علقمہ اور اسود ( رحمہم اللہ ) کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ، نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لئے مالی طاقت ہو اسے نکاح کرلیناچاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگا ہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑدے گا ۔

روزہ خواہشات نفسانی کو کم کر دینے والا عمل ہے اس لئے مجرد نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنا چاہیے کہ خواہش نفسانی ان کو گناہ پر نہ ابھار سکے آج کی دنیا میں ایسے خدا ترس ایماندار نوجوانوں کا فرض ہے کہ سنیما بازی و فحش رسائل کے پڑھنے اور ریڈیائی فحش گانوں کے سننے سے بالکل دور رہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت