2499 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ اليَهُودَ، أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا»
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بنت اسماءنے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دے دی تھی کہ وہ اس میں محنت کریں اور بوئیں جوتیں۔ پیداوار کا آدھا حصہ انہیں ملا کرے گا۔
اسلام معاشرتی تمدنی امور میں مسلمانوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ دوسری غیرمسلم قوموں سے مل کر اپنے معاشی مسائل حل کرسکتے ہیں نہ صرف کھیتی کیاری بلکہ جملہ دنیاوی امور سب اس اجازت میں شامل ہیں، اسی طرح مسلمانوں کو بہت سے دینی و دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔