فهرس الكتاب

الصفحة 5691 من 7563

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

باب: ناک میں دوا ڈالنا درست ہے ناس لینا بھی مرادہے اور دیگر دوائیں ناک میں ٹپکانا بھی ۔

5691 حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَأَعْطَى الحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَاسْتَعَطَ»

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ ابن طاؤس نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کواس کی مزدوری دی اور ناک میں دوا ڈلوائی ۔`

مزدوری دینے کا مطلب یہ کہ پچھنا لگانے والے کا یہ پیشہ جائز درست ہے اس کو اس خدمت پر مزدوری حاصل کرنا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت