فهرس الكتاب

الصفحة 5899 من 7563

کتاب: لباس کے بیان میں

باب: خضاب کابیان

5899 حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ، فَخَالِفُوهُمْ»

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ان سے ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار نے اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہود ونصاریٰ خضاب نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب کیا کرو ۔

لال یا زرد خضاب کرنا یا مہندی وسم کا خضاب جس سے بالوں میں کالک اور سرخی آتی ہے جائز ہے لیکن بالکل کالا خضاب کرنا ممنوع ہے۔ کہتے ہیں کالا خضاب پہلے فرعون نے کیا تھا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرات شیخین مہندی اور وسم کا خضاب کیا کرتے تھے۔ حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اسلام کی نیشن یعنی قومیت ایک مستقل چیز ہے جو مسلمان کی خاص وضع قطع شکل صورت لباس وغیرہ میں داخل ہے۔ یہودیوں وغیرہ کی مخالفت کرنے کا مفہوم یہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت