6966 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دھوکہ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس کے ذریعہ وہ پہچانا جائے گا۔
جس سے لوگ پہچان لیں گے کہ یہ دنیا میں دغا بازی کیا کرتا تھا ( خود آگے فرماتے ہیں کہ میں تم میں کا ایک بشر ہوں تم میں کوئی زبان دراز ہوتا ہے میں اگر اس کے بیان پر اس کے بھائی کا حق اس کو دلادوں تو دوزخ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جب آپ کے فیصلے سے دوسرے کا مال حلال نہ ہو تو کسی قاضی کا فیصلہ موجب حلت کیوں کر ہوسکتا ہے۔