فهرس الكتاب

الصفحة 2465 من 7563

کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں

باب : گھروں کے صحن کا بیان اور ان میں بیٹھنا اور راستوں میں بیٹھ

2465 حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ فَقَالُوا مَا لَنَا بُدٌّ إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمر حفص بن میسرہ نے بیان کیا، اور ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاءبن یسار نے بیان کیا، اور ان سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبور ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاءدینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بحر طویل میں آداب الطریق کو یوں نظم فرمایا ہے:

جمعت آداب من رام الجلوس علی الطریق من قول خیر الخلق انسانا

افش السلام و احسن فی الکلام و شمت عاطسا و سلاما رد احسانا

فی الحمل عاون و مظلوما اعن و اغث لہفان و اہد سبیلا و اہد حیرانا

بالعرف مر و انہ من انکر و کف اذی و غض طرفا و اکثر ذکر مولانا

یعنی احادیث نبوی سے میں نے اس شخص کے لیے آداب الطریق جمع کیا ہے جو راستوں میں بیٹھنے کا قصد کرے، سلام کا جواب دو، اچھا کلام کرو، چھینکنے والے کو اس کے الحمد للہ کہنے پر یرحمک اللہ سے دعا دو، احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرو، بوجھ والوں کو بوجھ اٹھانے میں مدد کرو، مظلوم کی اعانت کرو، پریشان حال کی فریاد سنو، مسلمانوں، بھولے بھٹکے لوگوں کی رہنمائی کرو، نیک کاموں کا حکم کرو، بری باتوں سے روکو اور کسی کو ایذا دینے سے رک جاؤ اور آنکھیں نیچی کئے رہو اور ہمارے رب تبارک و تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتے رہا کرو جو ان حقوق کو ادا کرے اس کے لیے راستوں پر بیٹھنا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت