فهرس الكتاب

الصفحة 5815 من 7563

کتاب: لباس کے بیان میں

باب: کملیوں اور اونی حاشیہ دار چادروں کے بیان میں

5815 حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالاَ: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا

مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعدنے بیان کیا ، ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ، ان سے حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آخری مرض طاری ہوا تو آ پ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے " یہود ونصاریٰ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئے کہ انہوں نے اپنے انبیاءکی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے ( مسلمانوں کو ) ڈرا رہے تھے ۔

یہود ونصاریٰ سے بڑھ کر کمبخت وہ مسلمان ہیں جنہوں نے بزرگوں اور درویشوں کی قبور کو مزین کرکے دکانوں کی شکل دے رکھی ہے اور وہاں لوگوں سے سجدہ کراتے ہیں اور عرض کرتے ہیں وہاں عرضیاں لٹکاتے نیاز یں چڑھاتے ہیں۔ یہ لوگ قبر کے باہر سے یہ کام کرتے ہیں اور وہ بزرگ قبروں کے اندر سے ان پر لعنت بھیجتے ہیں کیونکہ یہ سب بزرگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش بردار اور آپ کی مرضی پر چلنے والے ہیں یہی قبروں کے پجاری عنداللہ مشرک اور ملعون ہیں خواہ یہ کیسے ہی نمازی وحاجی ہوں۔

ہرگز تو ازاں قو نباشی کہ فریبند حق را بہ سجودے ونبی رابہ درودے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت