فهرس الكتاب

الصفحة 1804 من 7563

کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان

باب : سفر بھی گویا ایک قسم کا عذاب ہے

1804 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز ) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کرچکے تو فورًا گھر واپس آجائے۔

یہ اس زمانے میں فرمایا گیا جب گھر سے باہر نکل کر قدم قدم پر بے حد تکالیف اور خطرات کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا ۔ آج کل سفر میں بہت آسانیاں مہیا ہو گئی ہیں مگر پھر بھی رسول برحق کا فرمان اپنی جگہ ہے ہوائی جہاز موثر جس میں بھی سفر ہو بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے بہت سے ناموافق حالات سامنے آتے ہیں جن کو دیکھ کر بےساختہ منہ سے نکل پڑتا ہے سفر بالواقع عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ۔ ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ سفر عذاب کا ٹکڑا کیوں ہے فورًا جواب دیا لان فیہ فراق الاحباب اس لیے کہ سفر میں احباب سے جدائی ہو جاتی ہے اور یہ بھی ایک روحانی عذاب ہے ۔ امام بخاری کا منشائے باب یہ ہے کہ حاجی کے بعد جلد ہی وطن کو واپس ہونا چاہیے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت