فهرس الكتاب

الصفحة 2726 من 7563

کتاب: شرائط کے مسائل کا بیان

باب : اگر مکاتب اپنی بیع پر اس لیے راضی ہوجائے کہ اسے آزاد کر دیا جائے گا تو اس کے ساتھ جو شرائط جائز ہوسکتی ہیں ، ان کا بیان

2726 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ المَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ المُؤْمِنِينَ اشْتَرِينِي، فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيعُونِي، فَأَعْتِقِينِي قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لاَ يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلاَئِي، قَالَتْ: لاَ حَاجَةَ لِي فِيكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَلَغَهُ - فَقَالَ: «مَا شَأْنُ بَرِيرَةَ؟» ، فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا، فَأَعْتِقِيهَا وَلْيَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا» ، قَالَتْ: فَاشْتَرَيْتُهَا، فَأَعْتَقْتُهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ»

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن مکی نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے بتلایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ میرے یہاں آئیں ، انہوں نے کتابت کا معاملہ کرلیا تھا ۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ اے ام المؤمنین ! مجھے آپ خرید لیں ، کیوں کہ میرے مالک مجھے بیچنے پر آمادہ ہیں ، پھر آپ مجھے آزاد کردینا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہاں ( میں ایسا کرلوں گی ) لیکن بریرہ رضی اللہ عنہا نے پھر کہا کہ میرے مالک مجھے اسی وقت بیچیں گے جب وہ ولاءکی شرط اپنے لیے لگالیں ۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر مجھے ضرورت نہیں ہے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ، یا آپ کو معلوم ہوا ( راوی کو شبہ تھا ) تو آپ نے فرمایا کہ بریرہ ( رضی اللہ عنہا ) کا کیا معاملہ ہے ؟ تم انہیں خرید کر آزاد کردو ، وہ لوگ جو چاہیں شرط لگالیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے بریرہ کو خرید کر آزاد کردیا اور اس کے مالک نے ولاءکی شرط اپنے لیے محفوظ رکھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ولاءاسی کے ساتھ ثابت ہوتی ہے جو آزاد کرے ( دوسرے ) جو چاہیں شرط لگاتے رہیں ۔

معلوم ہوا کہ غلط شرطوں کے ساتھ جو معاملہ ہو وہ شرطیں ہرگز قابل تسلیم نہ ہوں گی اور معاملہ منعقد ہوجائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت