فهرس الكتاب

الصفحة 306 من 7563

کتاب: حیض کے احکام و مسائل

باب: استحاضہ کا بیان

306 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:69] : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلاَةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ فَصَلِّي»

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بیان کیا کہ فاطمہ ابی حبیش کی بیٹی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو پاک ہی نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز بالکل چھوڑ دوں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں اس لیے جب حیض کے دن ( جس میں کبھی پہلے تمہیں عادتًا آیا کرتا تھا ) آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب اندازہ کے مطابق وہ دن گزر جائیں، تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔

یعنی غسل کرکے ایک روایت میں اتنا اور زیادہ ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہو۔ مالکیہ اس عورت کے لیے جس کا خون جاری ہی رہے یابواسیر والوں کے لیے مجبوری کی بنا پر وضونہ ٹوٹنے کے قائل ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت