فهرس الكتاب

الصفحة 7048 من 7563

کتاب: فتنوں کے بیان میں

باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ انفال میں یہ فرمانا کہ

7048 حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا بشر بن السري، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن أبي مليكة، قال قالت أسماء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أنا على، حوضي أنتظر من يرد على، فيؤخذ بناس من دوني فأقول أمتي‏.‏ فيقول لا تدري، مشوا على القهقرى ‏"‏‏.‏ قال ابن أبي مليكة اللهم إنا نعوذ بك أن نرجع على أعقابنا أو نفتن‏.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع نے بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قیامت کے دن) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر ( حوض کوثر) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے" اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنہ میں پڑجائیں" ۔

ان احادیث کا مطالعہ کرنے والوں کو غور کرنا ہوگا کہ وہ کسی قسم کی بدعت میں مبتلا ہوکر شفاعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم نہ ہوجائیں۔ بدعت وہ بدترین کام ہے جس سے ایک مسلمان کے سارے نیک اعمال اکارت ہوجاتے ہیں اور بدعتی حوض کوثر اور شفاعت نبوی سے محروم ہوکر خائب و خاصر ہوجائیں گے یا اللہ! ہر بدعت اور ہر برے کام سے بچائیو، آمین۔ یا اللہ! اس حدیث پر ہم بھی تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھرجائیں یعنی دین سے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت