فهرس الكتاب

الصفحة 3014 من 7563

کتاب: جہاد کا بیان

باب : جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے؟

3014 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، «فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ»

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا' کہا ہم کو لیث نے خبر دی' انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوہ ( غزوہ فتح ) میں ایک عورت مقتول پائی گئی توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اوربچوں کے قتل پر انکار کا اظہار فرمایا ۔

جنگ میں قصدا عورتوں یا بچوں کا مارنا اسلام میں ناپسندیدہ کام ہے۔ صد افسوس کہ یہ نوٹ ایسے وقت میں لکھ رہا ہوں کہ ملک بنگال مشرقی پاکستان میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان مرد' عورت' بچے بکریوں کی طرح ذبح کئے جا رہے ہیں۔ بنگالیوں اور بہاریوں اور پنجابیوں کے ناموں پر مسلمان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اسلامی بھائیوں کی خون ریزی کر رہے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت