باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ والذاریات میں " میں بہت روزی دینے والا ' زوردار مضبوط ہوں۔ "
7378 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنْ اللَّهِ يَدَّعُونَ لَهُ الْوَلَدَ ثُمَّ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ
ہم سے عبد ان نے بیان کیا ' ان سے ابو حمزہ نے ' ان سے اعمش نے ' ان سے سعید بن جبیر نے ' ان سے ابو عبد الرحمن سلمی نے اور ان سے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا' تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ کم بخت مشرک کہتے ہیں کہ اللہ تاولاد رکھتا ہے اور پھر بھی وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے ۔