فهرس الكتاب

الصفحة 5869 من 7563

کتاب: لباس کے بیان میں

باب: انگوٹھی میں نگینہ لگانا درست ہے

5869 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ، هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: أَخَّرَ لَيْلَةً صَلاَةَ العِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ، قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا»

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ، کہا ہم کو حمید نے خبردی ، کہا انہوں نے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاءکی نماز آدھی رات میں پڑھائی ۔ پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا ، جیسے اب بھی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو ۔

حدیث میں انگوٹھی کا ذکر ہے باب سے یہی مطابقت ہے انگوٹھی کی چمک سے اس کے نگینہ کی چمک مراد ہے جیسا کہ حدیث ذیل میں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت