فهرس الكتاب

الصفحة 5213 من 7563

کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

باب: اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت۔۔۔

5213 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ قَالَ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہاہم سے بشر بن مفضل نے ، ان سے خالد حذاءنے ، ان سے ابو قلابہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے ( راوی ابوقلابہ یا انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتاہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آنے والی حدیث ) ارشاد فرمائی ۔ لیکن بیان کیا کہ دستور یہ ہے کہ جب کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک رہنا چاہئے اور جب بیوہ سے شادی کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک رہنا چاہئے ۔

اس کے بعد باری باری دونوں کے پاس رہا کرے۔ نئی بیوی کو خاوند سے ذرا وحشت ہوتی ہے خصوصًا کنواری کو جس کے لئے سات دن اس لئے مقرر کئے کہ اس کی وحشت دورہو کر اس کا دل مل جائے اس کے بعد پھر باری باری رہے تاکہ انصاف کے خلاف نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت