فهرس الكتاب

الصفحة 5362 من 7563

کتاب: خرچہ دینے کے بیان میں

باب: عورت کے لیے خادم کا ہونا

5362 حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ مُجَاهِدًا، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: «أَلاَ أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ؟ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ، فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ، قِيلَ: وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبید اللہ بن ابی یزید نے بیان کیا ، انہوں نے مجاہد سے سنا ، انہوں نے عبداللہ بن ابی لیلیٰ سے سنا ، ان سے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اور آپ سے ایک خادم مانگا تھا ، پھر آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہو ۔ سوتے وقت تینتیس ( 33 ) مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس ( 33 ) مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس ( 34 ) مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو ۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ ان میں سے ایک کلمہ چونتیس بار کہہ لے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے ان کلموں کو کبھی نہیں چھوڑا ۔ ان سے پوچھا گیا جنگ صفین کی راتوں میں بھی نہیں؟ کہا کہ صفین کی راتوں میں بھی نہیں ۔

صفین وہ جگہ جہاں حضرت علی اور امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے درمیان جنگ برپا ہوئی تھی۔ حالت جنگ میں بھی آپ نے اس اہم ترین وظیفہ کو ترک نہیں فرمایا ۔ وظیفہ کے کامیاب ہونے کی یہی شرط ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت