فهرس الكتاب

الصفحة 2776 من 7563

کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان

باب : وقف کی جائداد کا اہتمام کرنے والا اپنا خرچ اس میں سے لے سکتا ہے

2776 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ»

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا' کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی' انہیں ابو الزناد نے' انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی میرے وارث ہیں' وہ روپیہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں' وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔

معلوم ہوا کہ جو کوئی وقفی جائداد کا انتظام کرے' اس کا وہ متولی ہو وہ اپنی محنت کا واجبی معاوضہ جائداد میں سے دلانے کا مستحق ہو گا۔ ( وحیدی )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت