5620 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ الأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلاَمِ: «أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلاَءِ؟» فَقَالَ الغُلاَمُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لاَ أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابو حازم بن دینار نے اور ان سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہو اتھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ ( حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بیٹھے ہوئے ) تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے کہا کیا تم مجھے اجازت دوگے کہ میں ان ( شیوخ ) کو ( پہلے ) دے دوں ۔ لڑکے نے کہا اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! آپ کے جھوٹے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا ۔
لفظ "تلہ" بتلاتا ہے کہ آپ نے وہ پیالہ بادل ناخواستہ اس لڑکے کے ہاتھ دیا، آپ کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بڑوں کے لیے ایثار کرے مگر اس نے ایسا نہیں کیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اس کے حوالے کردیا۔