فهرس الكتاب

الصفحة 637 من 7563

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

باب: نماز کی تکبیر کے وقت کس وقت کھڑے ہوں؟

637 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ [ص:130] صلّى الله عليه وسلم: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي»

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا مجھے یحییٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے یہ حدیث لکھ کر بھیجی کہ وہ اپنے باپ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔

اس مسئلے میں کئی قول ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تکبیر ختم ہونے کے بعد مقتدیوں کو اٹھنا چاہئیے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں تکبیر شروع ہوتے ہی۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب مؤذن حی علی الصلوٰۃ کہے اور جب مؤذن قدقامت الصلوٰۃ کہے توامام نماز شروع کردے۔ امام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حی علی الصلوٰۃ پر اٹھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب کی حدیث لا کر یہ اشارہ کیا جب امام مسجد میں نہ ہو تو مقتدیوں کو چاہئیے کہ بیٹھے رہیں اور جب امام کو دیکھ لیں تب نماز کے لیے کھڑے ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت