فهرس الكتاب

الصفحة 6194 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے

6194 حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ [ص:44] ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ: قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ»

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمدبن بشر نے ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد بجلی نے ، کہ میں نے ابن ابی اوفی ٰ سے پوچھا ۔ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا تھا ؟ بیان کیا کہ ان کی وفات بچپن ہی میں ہو گئی تھی اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔

نہ ظلی نہ بروزی جیسا کہ آج کل کے دجاجلہ کہتے ہیں ۔ ھداھم اللہ ۔ اب قیامت تک صرف آپ ہی کی نبوت رہے گی۔ کوئی اگر نیا مدعی نبوت کھڑا ہوگاتو وہ دجال ہے۔ جھوٹاہے۔ اسلام سے خارج ہے۔ لو قد راللہ ان یکون بعدہ نبی لعاش ولکنہ خاتم النبیین۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت