3063 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الوَلِيدِ عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ عَلَيْهِ، وَمَا يَسُرُّنِي، أَوْ قَالَ: مَا يَسُرُّهُمْ، أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ، وَقَالَ وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ' کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا ' ان سے ایوب نے ' ان سے حمید بن ہلال نے اوران سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیا ن کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ میں ) غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ' ( جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے ) آپ نے فرمایا ' کہ اب اسلامی علم زید بن حارثہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کر دیا گیا ، پھر جعفر نے علم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اوروہ بھی شہید کردیئے گئے ۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے علم تھاما ' یہ بھی شہید کر دیئے گئے ۔ آخر خالد بن ولید نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی علم اٹھا لیا ہے ۔ اوران کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گئی ' اور میرے لئے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا آپ نے فرمایا ' کہ ان کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ ( شہداء ) ہمارے پاس زندہ ہوتے ۔ ( کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں ) اورانس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔