5357 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ لِي مَعْمَرٌ، قَالَ لِي الثَّوْرِيُّ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الرَّجُلِ يَجْمَعُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ أَوْ بَعْضِ السَّنَةِ؟ قَالَ مَعْمَرٌ: فَلَمْ يَحْضُرْنِي، ثُمَّ ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَيَحْبِسُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ»
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی ، ان سے ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر نے بیان کیا کہ ان سے ثوری نے پوچھا کہ تم نے ایسے شخص کے بارے میں بھی سنا ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا یا سال سے کم کا خرچ جمع کر لے ۔ معمر نے بیان کیا کہ اس وقت مجھے یاد نہیں آیا پھر بعد میں یاد آیا کہ اس بارے میں ایک حدیث حضرت ابن شہادب نے ہم سے بیان کی تھی ، ان سے مالک بن اوس نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نضیر کے باغ کی کھجور یں بیچ کر اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی روزی جمع کر دیا کرتے تھے ۔
اسی سے باب کا مطلب حاصل ہوا۔ یہ جمع کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔ یہ انتظامی معاملہ ہے اور اہل وعیال کا انتظام خوراک وغیرہ کا کرنا مرد پر لازم ہے۔