فهرس الكتاب

الصفحة 1193 من 7563

کتاب: مکہ و مدینہ میں نماز کی فضیلت

باب: جو مسجد قباء میں ہرہفتہ حاضر ہوا

1193 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ كُلَّ سَبْتٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ

ہم سے موسی بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبد العزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبد اللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو مسجد قباءآتے پیدل بھی ( بعض دفعہ ) اور سواری پر بھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے۔

معلوم ہوا کہ مسجد قباءکی ان دو رکعتوں کا عظیم ثواب ہے۔ اللہ ہر مسلمان کو نصیب فرمائے آمین۔ یہی وہ تاریخی مسجد ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے لَمَسجِد اُسِّسَ عَلَی التَّقوٰی مِن اَوَّلِ یَومٍ اَحَقُّ اَن تَقُومَ فِیہِ فِیہِ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھَّرُوا وَاللّٰہُ یُحِبُّ المُطَّھَّرِینَ ( التوبہ:108 ) یعنی یقینا اس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے۔ اس میں تیرا نماز کے لیے کھڑا ہونا انسب ہے۔ کیونکہ اس میں ایسے نیک دل لوگ ہیں جو پاکیزگی چاہتے ہیں۔ اور اللہ تعالی پاکی چاہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت