6596 حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سیشعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ ایک صاحب نے ( یعنی خود انہوں نے ) عرض کیا یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جاچکے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ہاں " انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیاگیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔
رشک بکسر یزید کا لقب ہے، ان کی ڈاڑھی بہت ہی لمبی تھی۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو لازم ہے کہ نیک کاموں کی کوشش کرے اور اللہ سے جنتی ہونے کی دعا بھی کرے کیونکہ دعا سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور دعا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔