فهرس الكتاب

الصفحة 176 من 7563

کتاب: وضو کے بیان میں

باب: وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان

176 حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ المَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَزَالُ العَبْدُ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَ فِي المَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ مَا لَمْ يُحْدِثْ» فَقَالَ رَجُلٌ أَعْجَمِيٌّ: مَا الحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْطَةَ

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے سعید المقبری نے بیان کیا، وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے۔ تاوقیتکہ وہ حدث نہ کرے۔ ایک عجمی آدمی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ! حدث کیا چیز ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ ہوا جو پیچھے سے خارج ہو۔ ( جسے عرف عام میں گوز مارنا کہتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت