فهرس الكتاب

الصفحة 7233 من 7563

کتاب: نیک ترین آرزؤں کے جائز ہونے کے بیان میں

باب : جس کی تمنا کرنا منع ہے

7233 حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُ

ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا ' ان سے ابو الاحوص نے ' ان سے عاصم نے بیان کیا ' ان سے نضر بن انس نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کرو تو میں موت کی آرزو کرتا ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر بہت طویل ہوئی تھی ۔ انہوں نے طرح طرح کے فتنے اور فساد مسلمانوں میں دیکھے مثلًا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ' حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ' خارجیوں کا زور ظلم ' اس وجہ سے موت کو پسند کرنے لگے ۔ قسطلانی نے کہا اگر آدمی کو دین کی خرابی اور فتنے میں پڑنے کا ڈر ہو تب تو موت کی آرزو کرنا بلا کراہت جائز ہے ۔ میں کہتا ہوں ایک حدیث میں ہے اذا اردت بعبادک فتنۃ فاقبضنی الیک غیر مفتون دوسری حدیث میں ہے ایسے وقت میں میں یوں دعا کرنا بہتر ہے اللھم احینی ما کانت الحےٰوۃ خیر الی وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیر الی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت