فهرس الكتاب

الصفحة 2503 من 7563

کتاب: شراکت کے مسائل کے بیان میں

باب : غلام لونڈی میں شرکت کا بیان

2503 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، وَجَبَ عَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ كُلَّهُ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ قَدْرَ ثَمَنِهِ، يُقَامُ قِيمَةَ عَدْلٍ، وَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَّتَهُمْ، وَيُخَلَّى سَبِيلُ المُعْتَقِ»

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بنت اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ساجھے کے غلام کا اپنا حصہ آزاد کردیا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر غلام کی انصاف کے موافق قیمت کے برابر اس کے پاس مال ہو تو وہ سارا غلام آزاد کرادے۔ اس طرح دوسرے ساجھیوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کردی جائے اور اس آزاد کیے ہوئے غلام کا پیچھا چھوڑ دیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت