فهرس الكتاب

الصفحة 5531 من 7563

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

باب: مردار جانور کی کھال کا کیا حکم ہے

5531 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: «هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» قَالُوا: إِنَّهَا مَيِّتَةٌ، قَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا»

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔

چمڑہ دباغت سے پاک ہو جاتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت