فهرس الكتاب

الصفحة 2032 من 7563

کتاب: اعتکاف کے مسائل کا بیان

باب : صرف رات بھر کے لیے اعتکاف کرنا

2032 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ عمری نے، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، میں نے جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔

نذر نیاز جوخالصًا للہ ہو اور امر جائز کے لیے جائز طور پر مانی گئی ہواور اس کا پورا کرنا واجب ہے۔ اعتکاف بھی ایسے امور میں داخل ہے اگر کوئی غلط نذر مانے جیسا کہ ایک شخص نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذ رمانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا۔ اس طرح دیگر غلط نذر منت بھی توڑی جانی ضروری ہے۔ غیر اللہ کے لیے کوئی نذر منت ماننا شرک میں داخل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت