فهرس الكتاب

الصفحة 7216 من 7563

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

باب : اس کا گناہ جس نے بیت توڑی

7216 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ جَاءَ الْغَدَ مَحْمُومًا فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَلَمَّا وَلَّى قَالَ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا

ہم سے ابو نعیم ( فضل بن دکین ) نے بیان کیا ' کہا یم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ' ان سے محمد بن منکدر نے ' انہوں نے کہا میں نے جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ' وہ کہتے تھے ایک گنوار ( نام نا معلوم ) یا قیس بن ابی حازم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ' کہنے لگا یا رسول اللہ ! اسلام پر مجھ سے بیعت لیجئے ۔ آپ نے اس سے بیعت لے لی ' پھر دو سرے دن بخار میں ہلہلاتا آیا کہنے لگا میری بیعت فسخ کر دیجئے ۔ آپ نے انکار کیا ( بیعت فسخ نہیں کی ) جب وہ پیٹھ موڑ کر چلتا ہوا تو فرمایا مدینہ کیا ہے ( لوہار کی بھٹی ہے ) پلید اور نا پاک ( میل کچیل ) کو چھانٹ ڈالتا ہے اور کھرا ستھرا مال رکھ لیتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت