5544 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنَ الإِبِلِ، قَالَ: فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَكُونُ فِي المَغَازِي وَالأَسْفَارِ، فَنُرِيدُ أَنْ نَذْبَحَ فَلاَ تَكُونُ مُدًى، قَالَ: «أَرِنْ، مَا نَهَرَ - أَوْ أَنْهَرَ - الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، غَيْرَ السِّنِّ وَالظُّفُرِ، فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ، وَالظُّفُرَ مُدَى الحَبَشَةِ»
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عمر بن عبید الطنافسی نے خبر دی ، انہیں سعید بن مسروق نے ، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے ، ان سے ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا ، پھر ایک آدمی نے تیر سے اسے مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا ، بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں ، اس لیے ان میں سے جو تمہارے قابوسے باہر ہو جائیں ، ان کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو ۔ رافع نے بیان کیا کہ میںنے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اکثرغزوات اور دوسرے سفروں میں رہتے ہیں اور جانور ذبح کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس چھریاں نہیں ہوتیں ۔ فرمایا کہ دیکھ لیا کرو جو آلہ خون بہا دے یا ( آپ نے بجائے نھر کے ) انھر فرمایا اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہو کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبش والوں کی چھری ہے ۔
چھری نہ ہونے پر بوقت ضرورت دانت اور ناخون کے سوا ہر ایسے آلہ سے ذبح جائز ہے جو خون بہا سکے۔