2029 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے ( اعتکاف کی حالت میں ) سر مبارک میری طرف حجرہ کے اندر کر دیتے، اور میں اس میں کنگھا کردیتی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو بلا حاجت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے۔
علامہ عبدالرحمن مبارکپوری مرحوم فرماتے ہیں فسرہا الزہری بالبول و الغائط و قد اتفقوا علی استثناءہما ( تحفۃ الاحوذی ) یعنی امام زہری نے حاجات کی تفسیر پیشاب اور پاخانہ سے کی ہے۔ اور اس پر لوگوں کا اتفاق ہے کہ ان حاجات کے لیے گھر جانا مستثنیٰ ہے اور معتکف ان حاجات کو رفع کرنے کے لیے جاسکتا ہے۔