5453 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الكَبَاثَ، فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَيْطَبُ» فَقَالَ: أَكُنْتَ تَرْعَى الغَنَمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا رَعَاهَا»
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے ، ہم پیلو توڑ رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ تو ڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاںنہ چرائی ہوں ۔
اس میں بڑی بڑی حکمتیں تھیں، جیسے پیغمبر ی کی وجہ سے غرور نہ آنا، دل میں شفقت پیدا ہونا ، بکریاں چرا کر آدمیوں کی قیادت کرنے کی لیاقت پیدا کرنا ۔ در حقیقت ہر نبی ورسول اپنی امت کا راعی ہوتا ہے اور امت بمنزلہ بکریوں کے ان کی رعیت ہوتی ہے۔ اس لیے یہ تمثیل بیان کی گئی۔