751 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ؟ فَقَالَ: «هُوَ اخْتِلاَسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاَةِ العَبْدِ»
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اشعت بن سلیم نے بیان کیا اپنے والد کے واسطے سے، انھوں نے مسروق بن اجدع سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو ڈاکہ ہے جو شیطان بندے کی نماز پر ڈالتا ہے۔
اس کوالتفات کہتے ہیں یعنی بغیر گردن یاسینہ موڑے ادھر ادھر جھانکنا نماز میں یہ سخت منع ہے۔ پہلے صحابہ نماز میں التفات کیا کرتے تھے جب آیت کریمہ قدافلح المؤمنون الذین ہم فی صلاتہم خاشعون ( المومنون: 1 ) نازل ہوئی تووہ اس سے رک گئے اورنظروں کو مقام سجدہ پر رکھنے لگے۔ حدیث میں آیاہے کہ جب نمازی باربار ادھر ادھر دیکھتاہے تواللہ پاک بھی اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتاہے۔ رواہ البزار عن جابر۔