فهرس الكتاب

الصفحة 1888 من 7563

کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

1888 بَاب حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض (کوثر ) پر ہوگا۔

گھر سے مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ ہے، جہاں آپ آرام فرما ہیں۔ ابن عساکر کی روایت میں یوں ہے کہ میری قبر اور منبر کے درمیان ایک کیاری ہے جنت کی کیاریوں میں سے۔ اور طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نکالا اس میں بھی قبر کا لفظ ہے اللہ پاک نے آپ کو پہلے ہی سے آگاہ فرما دیا تھا کہ آپ اس حجرہ میں قیامت تک آرام فرمائیں گے۔ بیان کردہ مبارک قطعہ حقیقتًا جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔ بعض نے کہا اس کی برکت اور خوبی کی وجہ سے مجازًا ایسا کہا گیا یا اس لیے کہ وہاں عبادت کرنا خصوصی طور پر دخول جنت کا ذریعہ ہے۔ منبر کے بارے میں جو فرمایا قدرت خداوندی سے یہ بھی بعید نہیں کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر اس منبر کو دوبارہ مہیا کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رکھ دیا جائے ( واللہ اعلم بمرادہ ) باب کا مقصد یہاں سکونت مدینہ کی ترغیب دلانا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت