فهرس الكتاب

الصفحة 7068 من 7563

کتاب: فتنوں کے بیان میں

باب : ہر زمانہ کے بعد دوسرے آنے والے زمانہ کااس سے بد تر آنا

7068 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنْ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ' کہا ہم سے سفیان نے ' ان سے زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ ' ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی ' انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ کبھی کبھی بعد کا زمانہ اگلے زمانہ سے بہتر ہو جاتا ہے مثلًا کوئی بادشاہ عادل اور متبع سنت پیدا ہو گیا جیسے عمر بن عبدالعزیز جس کا زمانہ حجاج کے بعد تھا وہ نہایت عادل اور متبع سنت تھے کیونکہ ایک آدھ شخص کے پیدا ہونے سے اس زمانہ کی فضیلت اگلے زمانہ پر لازم نہیں آتی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت