فهرس الكتاب

الصفحة 2693 من 7563

کتاب: صلح کے مسائل کا بیان

باب : حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو ہم صلح کرا دیں

2693 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الفَرْوِيُّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ أَهْلَ قُبَاءٍ اقْتَتَلُوا حَتَّى تَرَامَوْا بِالحِجَارَةِ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: «اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ بَيْنَهُمْ»

ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی اور اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قباء کے لوگوں نے آپس میں جھگڑا کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک نے دوسرے پر پتھر پھینکے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا ۔ چلو ہم ان میں صلح کرائیں گے ۔

گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کے لیے خود پیش قدمی فرمائی، یہی باب کا مقصد ہے۔ باہمی جھگڑے کا ہونا ہر وقت ممکن ہے، مگر اسلام کا تقاضا بلکہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ حسن تدبیر سے ایسے جھگڑوں کو ختم کرکے باہمی اتفاق کرادیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت